مہک اٹھا یکایک ریگزار درد تنہائی

خورشید احمد جامی

مہک اٹھا یکایک ریگزار درد تنہائی

خورشید احمد جامی

MORE BYخورشید احمد جامی

    مہک اٹھا یکایک ریگزار درد تنہائی

    کسے اے یاد جاناں تو یہاں تک ڈھونڈنے آئی

    بڑے دلچسپ وعدے تھے بڑے رنگین دھوکے تھے

    گلوں کی آرزو میں زندگی شعلے اٹھا لائی

    بتاؤ تو اندھیروں کی فصیلوں سے پرے آخر

    کہاں تک قافلہ گزرا کہاں تک روشنی آئی

    تمہارے بعد جیسے جاگتا ہے شب کا سناٹا

    در و دیوار کو دیتا ہے کوئی اذن گویائی

    سنا ہے سایۂ رخسار میں کچھ دیر ٹھہری تھی

    وہیں سے جگمگاتے خواب لے کر زندگی آئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY