میں اپنا نام ترے جسم پر لکھا دیکھوں

محمد علوی

میں اپنا نام ترے جسم پر لکھا دیکھوں

محمد علوی

MORE BYمحمد علوی

    میں اپنا نام ترے جسم پر لکھا دیکھوں

    دکھائی دے گا ابھی بتیاں بجھا دیکھوں

    پھر اس کو پاؤں مرا انتظار کرتے ہوئے

    پھر اس مکان کا دروازہ ادھ کھلا دیکھوں

    گھٹائیں آئیں تو گھر گھر کو ڈوبتا پاؤں

    ہوا چلے تو ہر اک پیڑ کو گرا دیکھوں

    کتاب کھولوں تو حرفوں میں کھلبلی مچ جائے

    قلم اٹھاؤں تو کاغذ کو پھیلتا دیکھوں

    اتار پھینکوں بدن سے پھٹی پرانی قمیص

    بدن قمیص سے بڑھ کر کٹا پھٹا دیکھوں

    وہیں کہیں نہ پڑی ہو تمنا جینے کی

    پھر ایک بار انہیں جنگلوں میں جا دیکھوں

    وہ روز شام کو علویؔ ادھر سے جاتی ہے

    تو کیا میں آج اسے اپنے گھر بلا دیکھوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY