میں سوز دروں اپنا دکھا بھی نہیں سکتا

برقی اعظمی

میں سوز دروں اپنا دکھا بھی نہیں سکتا

برقی اعظمی

MORE BYبرقی اعظمی

    میں سوز دروں اپنا دکھا بھی نہیں سکتا

    کیا مجھ پہ گزرتی ہے بتا بھی نہیں سکتا

    روشن ہے اسی سے مرا کاشانۂ ہستی

    اس شمع محبت کو بجھا بھی نہیں سکتا

    ہے بار سماعت اسے اظہار تمنا

    یہ حال زبوں اس کو سنا بھی نہیں سکتا

    زندہ ہے ضمیر اپنا ابھی، سامنے اس کے

    اپنا سر تسلیم جھکا بھی نہیں سکتا

    حد ہوتی ہے اک ناز اٹھانے کی کسی کے

    یہ بار گراں اب میں اٹھا بھی نہیں سکتا

    اس حال میں کب تک یوں ہی گھٹ گھٹ کے جیوں گا

    روٹھا ہے وہ ایسے کہ منا بھی نہیں سکتا

    تھا غیر جسے اپنا سمجھتا تھا بہی خواہ

    اب محفل یاراں وہ سجا بھی نہیں سکتا

    نافذ ہے زباں بندی کا دستور ابھی تک

    کیا دل پہ گزرتی ہے بتا بھی نہیں سکتا

    ہر وقت تصور میں ہے جو عظمت رفتہ

    کھویا ہوا اعزاز وہ پا بھی نہیں سکتا

    خوابوں میں حسیں تاج محل کرتا ہے تعمیر

    اپنے لئے اک گھر جو بنا بھی نہیں سکتا

    کیوں نیند اڑاتا ہے وہ برقیؔ کی اب اس سے

    وہ وعدۂ فردا جو نبھا بھی نہیں سکتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY