میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں

عبید اللہ علیم

میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں

عبید اللہ علیم

MORE BYعبید اللہ علیم

    میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں

    مرے شہر جل رہے ہیں مرے لوگ مر رہے ہیں

    کوئی غنچہ ہو کہ گل ہو کوئی شاخ ہو شجر ہو

    وہ ہوائے گلستاں ہے کہ سبھی بکھر رہے ہیں

    کبھی رحمتیں تھیں نازل اسی خطۂ زمیں پر

    وہی خطۂ زمیں ہے کہ عذاب اتر رہے ہیں

    وہی طائروں کے جھرمٹ جو ہوا میں جھولتے تھے

    وہ فضا کو دیکھتے ہیں تو اب آہ بھر رہے ہیں

    بڑی آرزو تھی ہم کو نئے خواب دیکھنے کی

    سو اب اپنی زندگی میں نئے خواب بھر رہے ہیں

    کوئی اور تو نہیں ہے پس خنجر آزمائی

    ہمیں قتل ہو رہے ہیں ہمیں قتل کر رہے ہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    عبید اللہ علیم

    عبید اللہ علیم

    RECITATIONS

    عبید اللہ علیم

    عبید اللہ علیم

    عبید اللہ علیم

    میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں عبید اللہ علیم

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY