مقام شوق سے آگے بھی اک رستہ نکلتا ہے

آفتاب حسین

مقام شوق سے آگے بھی اک رستہ نکلتا ہے

آفتاب حسین

MORE BYآفتاب حسین

    مقام شوق سے آگے بھی اک رستہ نکلتا ہے

    کہیں کیا سلسلہ دل کا کہاں پر جا نکلتا ہے

    مژہ تک آتا جاتا ہے بدن کا سب لہو کھنچ کر

    کبھی کیا اس طرح بھی یاد کا کانٹا نکلتا ہے

    دکان دل بڑھاتے ہیں حساب بیش و کم کر لو

    ہمارے نام پر جس جس کا بھی جتنا نکلتا ہے

    ابھی ہے حسن میں حسن نظر کی کار فرمائی

    ابھی سے کیا بتائیں ہم کہ وہ کیسا نکلتا ہے

    میان شہر ہیں یا آئنوں کے روبرو ہیں ہم

    جسے بھی دیکھتے ہیں کچھ ہمیں جیسا نکلتا ہے

    یہ دل کیوں ڈوب جاتا ہے اسی سے پوچھ لوں گا میں

    ستارہ شام ہجراں کا ادھر بھی آ نکلتا ہے

    دل مضطر وفا کے باب میں یہ جلد بازی کیا

    ذرا رک جائیں اور دیکھیں نتیجہ کیا نکلتا ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    مقام شوق سے آگے بھی اک رستہ نکلتا ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY