میری دعا کہ غیر پہ ان کی نظر نہ ہو

بسمل  عظیم آبادی

میری دعا کہ غیر پہ ان کی نظر نہ ہو

بسمل  عظیم آبادی

MORE BYبسمل  عظیم آبادی

    میری دعا کہ غیر پہ ان کی نظر نہ ہو

    وہ ہاتھ اٹھا رہے ہیں کہ یا رب اثر نہ ہو

    ہم کو بھی ضد یہی ہے کہ تیری سحر نہ ہو

    اے شب تجھے خدا کی قسم مختصر نہ ہو

    تم اک طرف تمہاری خدائی ہے اک طرف

    حیرت زدہ ہے دل کہ کدھر ہو کدھر نہ ہو

    دشوار تر بھی سہل ہے ہمت کے سامنے

    یہ ہو تو کوئی ایسی مہم ہے کہ سر نہ ہو

    جب وہ نہ آئے فاتحہ پڑھنے تو اے صبا

    باز آ گیا میں شمع بھی اب نوحہ گر نہ ہو

    یہ کہہ کے دیتی جاتی ہے تسکیں شب فراق

    وہ کون سی ہے رات کہ جس کی سحر نہ ہو

    بسملؔ بتوں کا عشق مبارک تمہیں مگر

    اتنے نڈر نہ ہو کہ خدا کا بھی ڈر نہ ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY