مرے خدا مجھے وہ تاب نے نوائی دے

عبید اللہ علیم

مرے خدا مجھے وہ تاب نے نوائی دے

عبید اللہ علیم

MORE BYعبید اللہ علیم

    مرے خدا مجھے وہ تاب نے نوائی دے

    میں چپ رہوں بھی تو نغمہ مرا سنائی دے

    گدائے کوئے سخن اور تجھ سے کیا مانگے

    یہی کہ مملکت شعر کی خدائی دے

    نگاہ دہر میں اہل کمال ہم بھی ہوں

    جو لکھ رہے ہیں وہ دنیا اگر دکھائی دے

    چھلک نہ جاؤں کہیں میں وجود سے اپنے

    ہنر دیا ہے تو پھر ظرف کبریائی دے

    مجھے کمال سخن سے نوازنے والے

    سماعتوں کو بھی اب ذوق آشنائی دے

    نمو پزیر ہے یہ شعلۂ نوا تو اسے

    ہر آنے والے زمانے کی پیشوائی دے

    کوئی کرے تو کہاں تک کرے مسیحائی

    کہ ایک زخم بھرے دوسرا دہائی دے

    میں ایک سے کسی موسم میں رہ نہیں سکتا

    کبھی وصال کبھی ہجر سے رہائی دے

    جو ایک خواب کا نشہ ہو کم تو آنکھوں کو

    ہزار خواب دے اور جرأت رسائی دے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    عبید اللہ علیم

    عبید اللہ علیم

    عبید اللہ علیم

    عبید اللہ علیم

    RECITATIONS

    عبید اللہ علیم

    عبید اللہ علیم

    عبید اللہ علیم

    مرے خدا مجھے وہ تاب نے نوائی دے عبید اللہ علیم

    مآخذ
    • کتاب : Chand Chehra Sitara Aankhen (Pg. 17)
    • Author : obaidullah aliim
    • مطبع : Al-Ibas Printers (2012)
    • اشاعت : 2012

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY