مجھ سے ملنے شب غم اور تو کون آئے گا

شکیب جلالی

مجھ سے ملنے شب غم اور تو کون آئے گا

شکیب جلالی

MORE BYشکیب جلالی

    مجھ سے ملنے شب غم اور تو کون آئے گا

    میرا سایہ ہے جو دیوار پہ جم جائے گا

    ٹھہرو ٹھہرو مرے اصنام خیالی ٹھہرو

    میرا دل گوشۂ تنہائی میں گھبرائے گا

    لوگ دیتے رہے کیا کیا نہ دلاسے مجھ کو

    زخم گہرا ہی سہی زخم ہے بھر جائے گا

    عزم پختہ ہی سہی ترک وفا کا لیکن

    منتظر ہوں کوئی آ کر مجھے سمجھائے گا

    آنکھ جھپکے نہ کہیں راہ اندھیری ہی سہی

    آگے چل کر وہ کسی موڑ پہ مل جائے گا

    دل سا انمول رتن کون خریدے گا شکیبؔ

    جب بکے گا تو یہ بے دام ہی بک جائے گا

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyat Shakeb Jamali (Pg. 178)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY