منافقت کا نصاب پڑھ کر محبتوں کی کتاب لکھنا

آفتاب حسین

منافقت کا نصاب پڑھ کر محبتوں کی کتاب لکھنا

آفتاب حسین

MORE BYآفتاب حسین

    منافقت کا نصاب پڑھ کر محبتوں کی کتاب لکھنا

    بہت کٹھن ہے خزاں کے ماتھے پہ داستان گلاب لکھنا

    میں جب چلوں گا تو ریگزاروں میں الفتوں کے کنول کھلیں گے

    ہزار تم میرے راستوں میں محبتوں کے سراب لکھنا

    فراق موسم کی چلمنوں سے وصال لمحے چمک اٹھیں گے

    اداس شاموں میں کاغذ دل پہ گزرے وقتوں کے باب لکھنا

    وہ میری خواہش کی لوح تشنہ پہ زندگی کے سوال ابھرنا

    وہ اس کا حرف کرم سے اپنے قبولیت کے جواب لکھنا

    گئے زمانوں کی درد کجلائی بھولی بسری کتاب پڑھ کر

    جو ہو سکے تم سے آنے والے دنوں کے رنگین خواب لکھنا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY