مسافرت میں شب وغا تک پہنچ گئے ہیں

عباس تابش

مسافرت میں شب وغا تک پہنچ گئے ہیں

عباس تابش

MORE BYعباس تابش

    مسافرت میں شب وغا تک پہنچ گئے ہیں

    یہ لوگ اپنی ابد سرا تک پہنچ گئے ہیں

    اب اس سے اگلا سفر ہمارا لہو کرے گا

    کہ ہم مدینے سے کربلا تک پہنچ گئے ہیں

    اگر مبارز طلب نہیں تھے تو کس لیے ہم

    چراغ لے کر در ہوا تک پہنچ گئے ہیں

    گلابوں اور گردنوں سے اندازہ ہو رہا ہے

    کہ ہم کسی موسم جزا تک پہنچ گئے ہیں

    تری محبت میں گمرہی کا عجب نشہ تھا

    کہ تجھ تک آتے ہوئے خدا تک پہنچ گئے ہیں

    بتا رہی ہے یہ خشک پتوں کی تیز بارش

    ہم اپنے موسم کی ابتدا تک پہنچ گئے ہیں

    ہمیں بھی شنوائی کا یقیں ہو چلا ہے تابشؔ

    کہ ہم بھی تحریک التوا تک پہنچ گئے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے