نہ آیا کر کے وعدہ وصل کا اقرار تھا کیا تھا

پروین ام مشتاق

نہ آیا کر کے وعدہ وصل کا اقرار تھا کیا تھا

پروین ام مشتاق

MORE BYپروین ام مشتاق

    نہ آیا کر کے وعدہ وصل کا اقرار تھا کیا تھا

    کسی کے بس میں تھا مجبور تھا لاچار تھا کیا تھا

    برا ہو بد گمانی کا وہ نامہ غیر کا سمجھا

    ہمارے ہاتھ میں تو پرچۂ اخبار تھا کیا تھا

    صدا سنتے ہی گویا مردنی سی چھا گئی مجھ پر

    یہ شور صور تھا یا وصل کا انکار تھا کیا تھا

    خدا کا دوست ہے تعمیر دل جو شخص کرتا ہو

    خلیل اللہ بھی کعبہ کا اک معمار تھا کیا تھا

    نہ آئے تم نہ آؤ میں نے کیا کچھ منتیں کی تھیں

    تمہیں نے خود کیا تھا عہد یہ اقرار تھا کیا تھا

    ہوا میں جب اڑا پردہ تو اک بجلی سی کوندی تھی

    خدا جانے تمہارا پرتو رخسار تھا کیا تھا

    ملا تو ہم سے محفل میں جو شب کو غیر کیوں بگڑا

    ترا حاکم تھا ٹھیکا دار تھا مختار تھا کیا تھا

    مری میت پہ ماتم کرتے ہو اللہ رے چالاکی

    خبر ہے خود تمہیں مدت سے میں بیمار تھا کیا تھا

    ہزاروں حسرتیں بیتاب تھیں باہر نکلنے کو

    وہ سوتے میں بھی پرویںؔ فتنۂ بیدار تھا کیا تھا

    RECITATIONS

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    Na aya karke wada wasl ka iqrar tha kya tha عذرا نقوی

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY