نہ باغ سے غرض ہے نہ گل زار سے غرض

میر حسن

نہ باغ سے غرض ہے نہ گل زار سے غرض

میر حسن

MORE BYمیر حسن

    نہ باغ سے غرض ہے نہ گل زار سے غرض

    ہے بھی جو کچھ غرض تو ہمیں یار سے غرض

    پھرتے ہیں ہم تو دید کو تیرے ہی در پہ کچھ

    رستے سے ہے نہ کام نہ بازار سے غرض

    کہنے سے کیا کسی کے کوئی کچھ کہا کرے

    ہم کو تو ایک اس کی ہے گفتار سے غرض

    جی ان دنوں میں آپ سے بھی ہے خفا ولیک

    بیزار جو نہیں ہے تو دل دار سے غرض

    پھر پھر کے آج پوچھتے ہو دل کا حال کیوں

    ہے خیر تم کو کیا دل بیمار سے غرض

    آنے کا وعدہ کر کہ نہ کر ہم کو اب ترے

    اقرار سے نہ کام نہ انکار سے غرض

    ہم کو بھی دشمنی سے ترے کام کچھ نہیں

    تجھ کو اگر ہمارے نہیں پیار سے غرض

    سر رشتہ جس کے ہاتھ لگا عشق کا اسے

    تسبیح سے نہ شوق نہ زنار سے غرض

    دیں دار جو رکھے نہ حسنؔ مجھ سے کام تو

    کافر ہوں میں بھی رکھوں جو دیں دار سے غرض

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY