نظر ملتے ہی ساقی سے گری اک برق سی دل پر

انیس احمد انیس

نظر ملتے ہی ساقی سے گری اک برق سی دل پر

انیس احمد انیس

MORE BYانیس احمد انیس

    نظر ملتے ہی ساقی سے گری اک برق سی دل پر

    وہ اٹھا شور ٹوٹے جام کہ بن آئی محفل پر

    اسی انداز سے اس نے لکھی ہے داستاں دل پر

    گلے میں پیار سے باہیں حمائل اور چھری دل پر

    کوئی اک حادثہ ہو گر کریں ہم ذکر بھی اس کا

    گزرتے ہیں یہاں تو حادثے پر حادثے دل پر

    نہ منزل ہے نہ جادہ ہے نہ کوئی راہبر باقی

    مرا ذوق سفر باقی ہے اک ہنگامۂ دل پر

    طواف ماہ کرنا اور خلا میں سانس لینا کیا

    بھروسہ جب نہیں انسان کو انسان کے دل پر

    وہی موجیں جو مجھ کو کھینچ کر لائی ہیں طوفاں میں

    انہیں موجوں کے ساتھ اک روز میں پہنچوں گا ساحل پر

    مسرت اور راحت سے نہ تھیں رعنائیاں کافی

    انیسؔ احسان غم کے بھی بہت ہیں ناتواں دل پر

    مأخذ :
    • کتاب : SAAZ-O-NAVA (Pg. 67)
    • مطبع : Raghu Nath suhai ummid

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY