نگاہ کے لیے اک خواب بھی غنیمت ہے

آفتاب حسین

نگاہ کے لیے اک خواب بھی غنیمت ہے

آفتاب حسین

MORE BYآفتاب حسین

    نگاہ کے لیے اک خواب بھی غنیمت ہے

    وہ تیرگی ہے کہ یہ روشنی غنیمت ہے

    چلو کہیں پہ تعلق کی کوئی شکل تو ہو

    کسی کے دل میں کسی کی کمی غنیمت ہے

    کم و زیادہ پہ اصرار کیا کیا جائے

    ہمارے دور میں اتنی سی بھی غنیمت ہے

    بدل رہے ہیں زمانے کے رنگ کیا کیا دیکھ

    نظر اٹھا کہ یہ نظارگی غنیمت ہے

    نہ جانے وقت کی گردش دکھائے گی کیا رخ

    گزر رہی ہے جو یہ زندگی غنیمت ہے

    غم جہاں کے جھمیلوں میں آفتاب حسینؔ

    خیال یار کی آسودگی غنیمت ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY