پناہیں ڈھونڈ کے کتنی ہی روز لاتا ہے

آشفتہ چنگیزی

پناہیں ڈھونڈ کے کتنی ہی روز لاتا ہے

آشفتہ چنگیزی

MORE BYآشفتہ چنگیزی

    پناہیں ڈھونڈ کے کتنی ہی روز لاتا ہے

    مگر وہ لوٹ کے زلفوں کی سمت آتا ہے

    سلگتی ریت ہے اور ٹھنڈے پانیوں کا سفر

    وہ کون ہے جو ہمیں راستہ دکھاتا ہے

    ہے انتظار مجھے جنگ ختم ہونے کا

    لہو کی قید سے باہر کوئی بلاتا ہے

    جو مشکلوں کے لیے حل تلاش لایا تھا

    کھلونے بانٹ کے بچوں میں مسکراتا ہے

    تمام راستے اب ایک جیسے لگتے ہیں

    گمان راہ میں شکلیں بدل کے آتا ہے

    شکار دھند کا صحرا نورد کرتے ہیں

    فریب کھانا کہاں دوسروں کو آتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY