پھر ملے ہم ان سے پھر یاری بڑھی

مبارک عظیم آبادی

پھر ملے ہم ان سے پھر یاری بڑھی

مبارک عظیم آبادی

MORE BYمبارک عظیم آبادی

    پھر ملے ہم ان سے پھر یاری بڑھی

    اور الجھا دل گرفتاری بڑھی

    مہربانی چارہ سازوں کی بڑھی

    جب بڑھا درماں تو بیماری بڑھی

    ہجر کی گھڑیاں کٹھن ہوتی گئیں

    دن کے نالے رات کی زاری بڑھی

    پھر تصور میں کسی کے نیند اڑی

    پھر وہی راتوں کی بے داری بڑھی

    سختیاں راہ محبت کی نہ پوچھ

    ہر قدم اک تازہ دشواری بڑھی

    خیر ساقی کی سلامت مے کدہ

    جس قدر پی اتنی ہشیاری بڑھی

    دور دورے ہیں مبارکؔ جام کے

    انتہا کی اپنی مے خواری بڑھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY