قافلہ اترا صحرا میں اور پیش وہی منظر آئے

اعجاز گل

قافلہ اترا صحرا میں اور پیش وہی منظر آئے

اعجاز گل

MORE BYاعجاز گل

    قافلہ اترا صحرا میں اور پیش وہی منظر آئے

    راکھ اڑی خیمہ گاہوں کی خون میں لتھڑے سر آئے

    گلیوں میں گھمسان کا رن ہے معرکہ دست بدست ہے یاں

    جسے بھی خود پر ناز بہت ہو آنگن سے باہر آئے

    اک آسیب سا لہراتا ہے بستی کی شہ راہوں پر

    شام ڈھلے جو گھر سے نکلے لوٹ کے پھر نہیں گھر آئے

    دنوں مہینوں آنکھیں روئیں نئی رتوں کی خواہش میں

    رت بدلی تو سوکھے پتے دہلیزوں میں در آئے

    ایک دیا روشن رکھنا دیوار پہ چاند ستاروں سا

    ابر اٹھے بارش برسے یا ہواؤں کا لشکر آئے

    ورنہ کس نے پار کیا تھا رستہ بھری دوپہروں کا

    کچھ ہم سے دیوانے تھے جو طے یہ مسافت کر آئے

    مآخذ:

    • کتاب : Nai Pakistani Ghazal Naye Dastakhat (Pg. 17)
    • Author : Nishat Shahid
    • مطبع : Miaar Publications K 20 C Shaikh Saraye Phase2 (1983)
    • اشاعت : 1983

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY