قدم قدم پہ کسی امتحاں کی زد میں ہے

آفتاب حسین

قدم قدم پہ کسی امتحاں کی زد میں ہے

آفتاب حسین

MORE BYآفتاب حسین

    قدم قدم پہ کسی امتحاں کی زد میں ہے

    زمین اب بھی کہیں آسماں کی زد میں ہے

    ہر ایک گام الجھتا ہوں اپنے آپ سے میں

    وہ تیر ہوں جو خود اپنی کماں کی زد میں ہے

    وہ بحر ہوں جو خود اپنے کنارے چاٹتا ہے

    وہ لہر ہوں کہ جو سیل رواں کی زد میں ہے

    میں اپنی ذات پہ اصرار کر رہا ہوں مگر

    یقیں کا کھیل مسلسل گماں کی زد میں ہے

    مرے وجود کے اندر اترتا جاتا ہے

    ہے کوئی زہر جو میری زباں کی زد میں ہے

    لگی ہوئی ہے نظر آنے والے منظر پر

    مگر یہ دل کہ ابھی رفتگاں کی زد میں ہے

    یہی نہیں کہ فقط رزق خواب بند ہوا

    گدائے کوئے ہنر بھی سگاں کی زد میں ہے

    افق افق جو مرے نور کا غبار اڑا

    یہ کائنات مرے خاکداں کی زد میں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY