رونے کو بہت روئے بہت آہ و فغاں کی

آشفتہ چنگیزی

رونے کو بہت روئے بہت آہ و فغاں کی

آشفتہ چنگیزی

MORE BYآشفتہ چنگیزی

    رونے کو بہت روئے بہت آہ و فغاں کی

    کٹتی نہیں زنجیر مگر سود و زیاں کی

    آئیں جو یہاں اہل خرد سوچ کے آئیں

    اس شہر سے ملتی ہیں حدیں شہر گماں کی

    کرتے ہیں طواف آج وہ خود اپنے گھروں کا

    جو سیر کو نکلے تھے کبھی سارے جہاں کی

    اس دشت کے انجام پہ پہلے سے نظر تھی

    تاثیر سمجھتے تھے ہم آواز سگاں کی

    الزام لگاتا ہے یہی ہم پہ زمانہ

    تصویر بناتے ہیں کسی اور جہاں کی

    پہلے ہی کہا کرتے تھے مت غور سے دیکھو

    ہر بات نرالی ہے یہاں دیدہ وراں کی

    آشفتہؔ اب اس شخص سے کیا خاک نباہیں

    جو بات سمجھتا ہی نہیں دل کی زباں کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY