ساری حیرت ہے مری ساری ادا اس کی ہے

جاوید اختر

ساری حیرت ہے مری ساری ادا اس کی ہے

جاوید اختر

MORE BY جاوید اختر

    ساری حیرت ہے مری ساری ادا اس کی ہے

    بے گناہی ہے مری اور سزا اس کی ہے

    میرے الفاظ میں جو رنگ ہے وہ اس کا ہے

    میرے احساس میں جو ہے وہ فضا اس کی ہے

    شعر میرے ہیں مگر ان میں محبت اس کی

    پھول میرے ہیں مگر باد صبا اس کی ہے

    اک محبت کی یہ تصویر ہے دو رنگوں میں

    شوق سب میرا ہے اور ساری حیا اس کی ہے

    ہم نے کیا اس سے محبت کی اجازت لی تھی

    دل شکن ہی سہی پر بات بجا اس کی ہے

    ایک میرے ہی سوا سب کو پکارے ہے کوئی

    میں نے پہلے ہی کہا تھا یہ صدا اس کی ہے

    خون سے سینچی ہے میں نے جو زمیں مر مر کے

    وہ زمیں ایک ستم گر نے کہا اس کی ہے

    اس نے ہی اس کو اجاڑا ہے اسے لوٹا ہے

    یہ زمیں اس کی اگر ہے بھی تو کیا اس کی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites