ساری امید رہی جاتی ہے

بسمل  عظیم آبادی

ساری امید رہی جاتی ہے

بسمل  عظیم آبادی

MORE BYبسمل  عظیم آبادی

    ساری امید رہی جاتی ہے

    ہائے پھر صبح ہوئی جاتی ہے

    نیند آتی ہے نہ وہ آتے ہیں

    رات گزری ہی چلی جاتی ہے

    مجمع حشر میں روداد باب

    وہ سنے بھی تو کہی جاتی ہے

    داستاں پوری نہ ہونے پائی

    زندگی ختم ہوئی جاتی ہے

    وہ نہ آئے ہیں تو بے چین ہے روح

    ابھی آتی ہے ابھی جاتی ہے

    زندگی آپ کے دیوانے کی

    کسی صورت سے کٹی جاتی ہے

    غم میں پروانوں کے اک مدت سے

    شمع گھلتی ہی چلی جاتی ہے

    آپ محفل سے چلے جاتے ہیں

    داستاں باقی رہی جاتی ہے

    ہم تو بسملؔ ہی رہے خیر ہوئی

    عشق میں جان چلی جاتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY