سب ہمارے لیے زنجیر لیے پھرتے ہیں

امام بخش ناسخ

سب ہمارے لیے زنجیر لیے پھرتے ہیں

امام بخش ناسخ

MORE BYامام بخش ناسخ

    سب ہمارے لیے زنجیر لیے پھرتے ہیں

    ہم سر زلف گرہ گیر لیے پھرتے ہیں

    کون تھا صید وفادار کہ اب تک صیاد

    بال و پر اس کے ترے تیر لیے پھرتے ہیں

    تو جو آئے تو شب تار نہیں یاں ہر سو

    مشعلیں نالۂ شب گیر لیے پھرتے ہیں

    تیری صورت سے کسی کی نہیں ملتی صورت

    ہم جہاں میں تری تصویر لیے پھرتے ہیں

    معتکف گرچہ بظاہر ہوں تصور میں مگر

    کو بہ کو ساتھ یہ بے پیر لیے پھرتے ہیں

    رنگ خوبان جہاں دیکھتے ہی زرد کیا

    آپ زور آنکھوں میں اکسیر لیے پھرتے ہیں

    جو ہے مرتا ہے بھلا کس کو عداوت ہوگی

    آپ کیوں ہاتھ میں شمشیر لیے پھرتے ہیں

    سرکشی شمع کی لگتی نہیں گر ان کو بری

    لوگ کیوں بزم میں گل گیر لیے پھرتے ہیں

    تا گنہ گاری میں ہم کو کوئی مطعوں نہ کرے

    ہاتھ میں نامۂ تقدیر لیے پھرتے ہیں

    قصر تن کو یوں ہی بنوا یہ بگولے ناسخؔ

    خوب ہی نقشۂ تعمیر لیے پھرتے ہیں

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    سب ہمارے لیے زنجیر لیے پھرتے ہیں فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY