سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے

شیخ ابراہیم ذوقؔ

سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے

شیخ ابراہیم ذوقؔ

MORE BYشیخ ابراہیم ذوقؔ

    سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے

    کون پھرتا ہے یہ مردار لیے پھرتی ہے

    گھر سے باہر نہ نکلتا کبھی اپنے خورشید

    ہوس گرمیٔ بازار لیے پھرتی ہے

    وہ مرے اختر طالع کی ہے واژوں گردش

    کہ فلک کو بھی نگوں سار لیے پھرتی ہے

    کر دیا کیا ترے ابرو نے اشارہ قاتل

    کہ قضا ہاتھ میں تلوار لیے پھرتی ہے

    جا کے اک بار نہ پھرنا تھا جہاں واں مجھ کو

    بے قراری ہے کہ سو بار لیے پھرتی ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY