سفر میں سوچتے رہتے ہیں چھاؤں آئے کہیں

محمد علوی

سفر میں سوچتے رہتے ہیں چھاؤں آئے کہیں

محمد علوی

MORE BYمحمد علوی

    سفر میں سوچتے رہتے ہیں چھاؤں آئے کہیں

    یہ دھوپ سارا سمندر ہی پی نہ جائے کہیں

    میں خود کو مرتے ہوئے دیکھ کر بہت خوش ہوں

    یہ ڈر بھی ہے کہ مری آنکھ کھل نہ جائے کہیں

    ہوا کا شور ہے بادل ہیں اور کچھ بھی نہیں

    جہاز ٹوٹ ہی جائے زمیں دکھائے کہیں

    چلا تو ہوں مگر اس بار بھی یہ دھڑکا ہے

    یہ راستہ بھی مجھے پھر یہیں نہ لائے کہیں

    خموش رہنا تمہارا برا نہ تھا علویؔ

    بھلا دیا تمہیں سب نے نہ یاد آئے کہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY