سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

بسمل  عظیم آبادی

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

بسمل  عظیم آبادی

MORE BYبسمل  عظیم آبادی

    سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

    دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

    اے شہید ملک و ملت میں ترے اوپر نثار

    لے تری ہمت کا چرچا غیر کی محفل میں ہے

    وائے قسمت پاؤں کی اے ضعف کچھ چلتی نہیں

    کارواں اپنا ابھی تک پہلی ہی منزل میں ہے

    رہرو راہ محبت رہ نہ جانا راہ میں

    لذت صحرا نوردی دورئ منزل میں ہے

    شوق سے راہ محبت کی مصیبت جھیل لے

    اک خوشی کا راز پنہاں جادۂ منزل میں ہے

    آج پھر مقتل میں قاتل کہہ رہا ہے بار بار

    آئیں وہ شوق شہادت جن کے جن کے دل میں ہے

    مرنے والو آؤ اب گردن کٹاؤ شوق سے

    یہ غنیمت وقت ہے خنجر کف قاتل میں ہے

    مانع اظہار تم کو ہے حیا، ہم کو ادب

    کچھ تمہارے دل کے اندر کچھ ہمارے دل میں ہے

    مے کدہ سنسان خم الٹے پڑے ہیں جام چور

    سرنگوں بیٹھا ہے ساقی جو تری محفل میں ہے

    وقت آنے دے دکھا دیں گے تجھے اے آسماں

    ہم ابھی سے کیوں بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے

    اب نہ اگلے ولولے ہیں اور نہ وہ ارماں کی بھیڑ

    صرف مٹ جانے کی اک حسرت دل بسملؔ میں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY