سرحدیں اچھی کہ سرحد پہ نہ رکنا اچھا

عرفان صدیقی

سرحدیں اچھی کہ سرحد پہ نہ رکنا اچھا

عرفان صدیقی

MORE BYعرفان صدیقی

    سرحدیں اچھی کہ سرحد پہ نہ رکنا اچھا

    سوچئے آدمی اچھا کہ پرندہ اچھا

    آج تک ہیں اسی کوچے میں نگاہیں آباد

    صورتیں اچھی چراغ اچھے دریچہ اچھا

    ایک چلو سے بھرے گھر کا بھلا کیا ہوگا

    ہم کو بھی نہر سے پیاسا پلٹ آنا اچھا

    پھول چہروں سے بھی پیارے تو نہیں ہیں جنگل

    شام ہو جائے تو بستی ہی کا رستہ اچھا

    رات بھر رہتا ہے زخموں سے چراغاں دل میں

    رفتگاں تم نے لگا رکھا ہے میلہ اچھا

    جا کے ہم دیکھ چکے بند ہے دروازۂ شہر

    ایک رات اور یہ رکنے کا بہانہ اچھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY