شہر کے دیوار و در پر رت کی زردی چھائی تھی

تاج سعید

شہر کے دیوار و در پر رت کی زردی چھائی تھی

تاج سعید

MORE BYتاج سعید

    شہر کے دیوار و در پر رت کی زردی چھائی تھی

    ہر شجر ہر پیڑ کی قسمت میں اب تنہائی تھی

    جینے والوں کا مقدر شہرتیں بنتی رہیں

    مرنے والوں کے لیے اب دشت کی تنہائی تھی

    چشم پوشی کا کسی ذی ہوش کو یارا نہ تھا

    رت صلیب و دار کی اس شہر میں پھر آئی تھی

    میں نے ظلمت کے فسوں سے بھاگنا چاہا مگر

    میرے پیچھے بھاگتی پھرتی مری رسوائی تھی

    بارشوں کی رت میں کوئی کیا لکھے آخر سعیدؔ

    لفظ کے چہروں کی رنگت بھی بہت دھندلائی تھی

    مأخذ :
    • کتاب : Urdu International (Pg. 123)
    • Author : Ashfaq Hussain
    • مطبع : 9, Thirty fifth Street, 2, Toronto, Ontario, Canada M8w 3J8 (Nov. Dec. Jan. 1982, Volume 1, No.2)
    • اشاعت : Nov. Dec. Jan. 1982, Volume 1, No.2

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے