شکن شکن تری یادیں ہیں میرے بستر کی

شاذ تمکنت

شکن شکن تری یادیں ہیں میرے بستر کی

شاذ تمکنت

MORE BYشاذ تمکنت

    شکن شکن تری یادیں ہیں میرے بستر کی

    غزل کے شعر نہیں کروٹیں ہیں شب بھر کی

    پھر آئی رات مری سانس رکتی جاتی ہے

    سرکتی آتی ہیں دیواریں پھر مرے گھر کی

    مجھے تو کرنی پڑی آبیاری صحرا

    مگر نصیب میں تھی تشنگی سمندر کی

    یہ جمع و خرچ زبانی ہے نقد شعر و سخن

    مگر یہی تو کمائی ہے زندگی بھر کی

    اسی نے بخشی ہے رنگینئ حیات مجھے

    کبھی کبھی تو اسی نے حیات دوبھر کی

    ردائے رنگ سے چھنتا ہوا بدن تیرا

    یہ چاندنی کہ تمازت ہے تیرے پیکر کی

    کتاب حسن ہے تو مل کھلی کتاب کی طرح

    یہی کتاب تو مر مر کے میں نے ازبر کی

    صنم کی آس لیے نوک تیشہ بوتا ہوں

    میں کب سے فصل اگاتا رہا ہوں پتھر کی

    نباہ کرتا ہوں دنیا سے اس طرح اے شاذؔ

    کہ جیسے دوستی ہو آستین و خنجر کی

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e- Shaz Tamkanat (Pg. 468)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY