سلسلہ اب بھی خوابوں کا ٹوٹا نہیں

آشفتہ چنگیزی

سلسلہ اب بھی خوابوں کا ٹوٹا نہیں

آشفتہ چنگیزی

MORE BY آشفتہ چنگیزی

    سلسلہ اب بھی خوابوں کا ٹوٹا نہیں

    کوچ کر جائیں کب کچھ بھروسا نہیں

    ہیں فصیلوں سے الجھے ہوئے سرپھرے

    دور تک کوئی شہر تمنا نہیں

    شام سے ہی گھروں میں پڑیں کنڈیاں

    چاند اس شہر میں کیوں نکلتا نہیں

    آگ لگنے کی خبریں تو پہنچیں مگر

    کوئی حیرت نہیں کوئی چونکا نہیں

    چھین کر مجھ سے لے جائے میرا بدن

    معتبر اتنا کوئی اندھیرا نہیں

    کیا یہی ملتے رہنے کا انعام ہے

    ایک کھڑکی نہیں اک جھروکا نہیں

    ایک منظر میں لپٹے بدن کے سوا

    سرد راتوں میں کچھ اور دکھتا نہیں

    تیز ہو جائیں اس کا تو امکان ہے

    آندھیاں اب رکیں ایسا لگتا نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY