سوچنے کا بھی نہیں وقت میسر مجھ کو

بسمل  عظیم آبادی

سوچنے کا بھی نہیں وقت میسر مجھ کو

بسمل  عظیم آبادی

MORE BYبسمل  عظیم آبادی

    سوچنے کا بھی نہیں وقت میسر مجھ کو

    اک کشش ہے جو لئے پھرتی ہے در در مجھ کو

    اپنا طوفاں نہ دکھائے وہ سمندر مجھ کو

    چار قطرے نہ ہوئے جس سے میسر مجھ کو

    عمر بھر دیر و حرم نے دئے چکر مجھ کو

    بے کسی کا ہو برا لے گئی گھر گھر مجھ کو

    شکر ہے رہ گیا پردہ مری عریانی کا

    خاک کوچے کی ترے بن گئی چادر مجھ کو

    چپ رہوں میں تو خموشی بھی گلہ ہو جائے

    آپ جو چاہیں وہ کہہ دیں مرے منہ پر مجھ کو

    خاک چھانا کئے ہم قافلے والوں کے لئے

    قافلے والوں نے دیکھا بھی نہ مڑ کر مجھ کو

    آپ ظالم نہیں، ظالم ہے مگر آپ کی یاد

    وہی کمبخت ستاتی ہے برابر مجھ کو

    انقلابات نے کچھ ایسا پریشان کیا

    کہ سجھائی نہیں دیتا ہے ترا در مجھ کو

    جرأت شوق تو کیا کچھ نہیں کہتی لیکن

    پاؤں پھیلانے نہیں دیتی ہے چادر مجھ کو

    مل گئی تشنگیٔ شوق سے فرصت تا عمر

    اپنے ہاتھوں سے دیا آپ نے ساغر مجھ کو

    اب مرا جذبۂ توفیق ہے اور میں بسملؔ

    خضر گم ہو گئے رستے پہ لگا کر مجھ کو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY