صبح سویرے خوشبو پنگھٹ جائے گی

عزیز نبیل

صبح سویرے خوشبو پنگھٹ جائے گی

عزیز نبیل

MORE BYعزیز نبیل

    صبح سویرے خوشبو پنگھٹ جائے گی

    ہر جانب قدموں کی آہٹ جائے گی

    سارے سپنے باندھ رکھے ہیں گٹھری میں

    یہ گٹھری بھی اوروں میں بٹ جائے گی

    کیا ہوگا جب سال نیا اک آئے گا؟

    جیون ریکھا اور ذرا گھٹ جائے گی

    اور بھلا کیا حاصل ہوگا صحرا سے

    دھول مری پیشانی پر اٹ جائے گی

    کتنے آنسو جذب کرے گی چھاتی میں

    یوں لگتا ہے دھرتی اب پھٹ جائے گی

    ہولے ہولے صبح کا آنچل پھیلے گا

    دھیرے دھیرے تاریکی چھٹ جائے گی

    نقارے کی گونج میں آخر کار نبیلؔ

    سناٹے کی بات یوں ہی کٹ جائے گی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY