سکوں تھوڑا سا پایا دھوپ کے ٹھنڈے مکانوں میں

کفیل آزر امروہوی

سکوں تھوڑا سا پایا دھوپ کے ٹھنڈے مکانوں میں

کفیل آزر امروہوی

MORE BYکفیل آزر امروہوی

    سکوں تھوڑا سا پایا دھوپ کے ٹھنڈے مکانوں میں

    بہت جلنے لگا تھا جسم برفیلی چٹانوں میں

    کب آؤ گے یہ گھر نے مجھ سے چلتے وقت پوچھا تھا

    یہی آواز اب تک گونجتی ہے میرے کانوں میں

    جنازہ میری تنہائی کا لے کر لوگ جب نکلے

    میں خود شامل تھا اپنی زندگی کے نوحہ خوانوں میں

    مری محرومیاں جب پتھروں کے شہر سے گزریں

    چھپایا سر تری یادوں کے ٹوٹے سائبانوں میں

    مجھے میری انا کے خنجروں نے قتل کر ڈالا

    بہانہ یہ بھی اک بے چارگی کا تھا بہانوں میں

    تماشہ ہم بھی اپنی بے بسی کا دیکھ لیتے ہیں

    تری یادوں کے پھولوں کو سجا کر پھول دانوں میں

    زمیں پیروں کے چھالے روز چن لیتی ہے پلکوں سے

    تخیل روز لے اڑتا ہے مجھ کو آسمانوں میں

    میں اپنے آپ سے ہر دم خفا رہتا ہوں یوں آزرؔ

    پرانی دشمنی ہو جس طرح دو خاندانوں میں

    مآخذ :
    • کتاب : Dhoop Ka Dareecha (Pg. 86)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY