طے کر چکے یہ زندگی جاوداں سے ہم

علی جواد زیدی

طے کر چکے یہ زندگی جاوداں سے ہم

علی جواد زیدی

MORE BYعلی جواد زیدی

    طے کر چکے یہ زندگی جاوداں سے ہم

    آگے بڑھیں گے اور اٹھے ہیں جہاں سے ہم

    کس کو صدا دیں کس سے کہیں ساتھ لے چلو

    پیچھے رہے غبار رہ کارواں سے ہم

    دل میں جو درد ہے وہ نگاہوں سے ہے عیاں

    یہ بات اور ہے نہ کہیں کچھ زباں سے ہم

    چونکا دیا قفس نے ہمیں گہری نیند سے

    وابستہ ہو چلے تھے بہت آشیاں سے ہم

    گر آ بھی جائے میری جبیں تک وہ آستاں

    لائیں گے سجدہ ریزی کی عادت کہاں سے ہم

    فیض جنوں سے فرصت فریاد ہی نہ تھی

    ناآشنا ہی رہ گئے طرز فغاں سے ہم

    دیکھی ہیں ہم نے ان کی پشیماں نگاہیاں

    کہنا ہو لاکھ پھر بھی کہیں کس زباں سے ہم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY