تلخی کش نومیدئ دیدار بہت ہیں

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

تلخی کش نومیدئ دیدار بہت ہیں

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

MORE BYوحشتؔ رضا علی کلکتوی

    تلخی کش نومیدئ دیدار بہت ہیں

    اس نرگس بیمار کے بیمار بہت ہیں

    عالم پہ ہے چھایا ہوا اک یاس کا عالم

    یعنی کہ تمنا کے گرفتار بہت ہیں

    اک وصل کی تدبیر ہے اک ہجر میں جینا

    جو کام کہ کرنے ہیں وہ دشوار بہت ہیں

    وہ تیرا خریدار قدیم آج کہاں ہے

    یہ سچ ہے کہ اب تیرے خریدار بہت ہیں

    محنت ہو مصیبت ہو ستم ہو تو مزا ہے

    ملنا ترا آساں ہے طلب گار بہت ہیں

    عشاق کی پرواہ نہیں خود تجھ کو وگرنہ

    جی تجھ پہ فدا کرنے کو تیار بہت ہیں

    وحشتؔ سخن و لطف سخن اور ہی شے ہے

    دیوان میں یاروں کے تو اشعار بہت ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY