تقاضا ہو چکی ہے اور تمنا ہو رہا ہے

ظفر اقبال

تقاضا ہو چکی ہے اور تمنا ہو رہا ہے

ظفر اقبال

MORE BYظفر اقبال

    تقاضا ہو چکی ہے اور تمنا ہو رہا ہے

    کہ سیدھا چاہتا ہوں اور الٹا ہو رہا ہے

    یہ تصویریں صداؤں میں ڈھلی جاتی ہیں کیوں کر

    کہ آنکھیں بند ہیں لیکن تماشا ہو رہا ہے

    کہیں ڈھلتی ہے شام اور پھوٹتی ہے روشنی سی

    کہیں پو پھٹ رہی ہے اور اندھیرا ہو رہا ہے

    پس موج ہوا بارش کا بستر سا بچھانے

    سر بام نوا بادل کا ٹکڑا ہو رہا ہے

    جسے دروازہ کہتے تھے وہی دیوار نکلی

    جسے ہم دل سمجھتے تھے وہ دنیا ہو رہا ہے

    قدم رکھے ہیں اس پایاب میں ہم نے تو جب سے

    یہ دریا اور گہرا اور گہرا ہو رہا ہے

    خرابی ہو رہی ہے تو فقط مجھ میں ہی ساری

    مرے چاروں طرف تو خوب اچھا ہو رہا ہے

    کہاں تک ہو سکا کار محبت کیا بتائیں

    تمہارے سامنے ہے کام جتنا ہو رہا ہے

    گزرتے جا رہے تھے ہم ظفرؔ لمحہ بہ لمحہ

    سمجھتے تھے کہ اب اپنا گزارہ ہو رہا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY