تیرا گھر اور میرا جنگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

پروین شاکر

تیرا گھر اور میرا جنگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

پروین شاکر

MORE BYپروین شاکر

    تیرا گھر اور میرا جنگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

    ایسی برساتیں کہ بادل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

    بچپنے کا ساتھ ہے پھر ایک سے دونوں کے دکھ

    رات کا اور میرا آنچل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

    وہ عجب دنیا کہ سب خنجر بکف پھرتے ہیں اور

    کانچ کے پیالوں میں صندل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

    بارش سنگ ملامت میں بھی وہ ہم راہ ہے

    میں بھی بھیگوں خود بھی پاگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

    لڑکیوں کے دکھ عجب ہوتے ہیں سکھ اس سے عجیب

    ہنس رہی ہیں اور کاجل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

    بارشیں جاڑے کی اور تنہا بہت میرا کسان

    جسم اور اکلوتا کمبل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

    مأخذ :
    • کتاب : kulliyaat-e-maahe tamaam(khshboo) (Pg. 164)

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY