تیرے لیے سب چھوڑ کے تیرا نہ رہا میں

عباس تابش

تیرے لیے سب چھوڑ کے تیرا نہ رہا میں

عباس تابش

MORE BYعباس تابش

    تیرے لیے سب چھوڑ کے تیرا نہ رہا میں

    دنیا بھی گئی عشق میں تجھ سے بھی گیا میں

    اک سوچ میں گم ہوں تری دیوار سے لگ کر

    منزل پہ پہنچ کر بھی ٹھکانے نہ لگا میں

    ورنہ کوئی کب گالیاں دیتا ہے کسی کو

    یہ اس کا کرم ہے کہ تجھے یاد رہا میں

    میں تیز ہوا میں بھی بگولے کی طرح تھا

    آیا تھا مجھے طیش مگر جھوم اٹھا میں

    اس درجہ مجھے کھوکھلا کر رکھا تھا غم نے

    لگتا تھا گیا اب کے گیا اب کے گیا میں

    یہ دیکھ مرا ہاتھ مرے خون سے تر ہے

    خوش ہو کہ ترا مد مقابل نہ رہا میں

    اک دھوکے میں دنیا نے مری رائے طلب کی

    کہتے تھے کہ پتھر ہوں مگر بول پڑا میں

    اب طیش میں آتے ہی پکڑ لیتا ہوں پاؤں

    اس عشق سے پہلے کبھی ایسا تو نہ تھا میں

    مأخذ :
    • کتاب : Ishq Abaad (kulliyat) (Pg. 383)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے