تھوڑا ہے جس قدر میں پڑھوں خط حبیب کا

لالہ مادھو رام جوہر

تھوڑا ہے جس قدر میں پڑھوں خط حبیب کا

لالہ مادھو رام جوہر

MORE BYلالہ مادھو رام جوہر

    تھوڑا ہے جس قدر میں پڑھوں خط حبیب کا

    دیکھا ہے آج آنکھوں سے لکھا نصیب کا

    ہم مے کشوں نے نشہ میں ایسے کیے سوال

    دم بند کر دیا سر منبر خطیب کا

    صیاد گھات میں ہے کہیں باغباں کہیں

    سارا چمن ہے دشمن جاں عندلیب کا

    اپنی زبان سے مجھے جو چاہے کہہ لیں آپ

    بڑھ بڑھ کے بولنا نہیں اچھا رقیب کا

    آنکھیں سفید ہو گئیں جب انتظار میں

    اس وقت نامہ بر نے دیا خط حبیب کا

    قسمت ڈبونے لائی ہے دریائے عشق میں

    اے خضر پار کیجئے بیڑا غریب کا

    وہ بے خطا ہیں ان سے شکایت ہی کس لیے

    جوہرؔ یہ سب قصور ہے اپنے نصیب کا

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    تھوڑا ہے جس قدر میں پڑھوں خط حبیب کا فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY