تیر نظر نے ظلم کو احساں بنا دیا

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

تیر نظر نے ظلم کو احساں بنا دیا

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

MORE BYوحشتؔ رضا علی کلکتوی

    تیر نظر نے ظلم کو احساں بنا دیا

    ترکیب دل نے درد کو درماں بنا دیا

    صد شکر آج ہو گئی تکمیل عشق کی

    اپنے کو خاک کوچۂ جاناں بنا دیا

    کوتاہی کوئی دست جنوں سے نہیں ہوئی

    دامن کو ہم کنار گریباں بنا دیا

    چھوڑی ہے جب سے میں نے سلامت روی کی چال

    دشواریوں کو راہ کی آساں بنا دیا

    اے مشعل امید یہ احسان کم نہیں

    تاریک شب کو تو نے درخشاں بنا دیا

    حسن آفریں ہوا ہے تصور جمال کا

    دل کو ہوائے گل نے گلستاں بنا دیا

    زہد اور اتقا پہ مجھے اپنے ناز تھا

    خود میں نے تجھ کو دشمن ایماں بنا دیا

    آئینۂ جمال کو دیکھوں گا کس طرح

    اس نے تو پہلے ہی مجھے حیراں بنا دیا

    وہ امتیاز حسن ہے معنی و لفظ کا

    وحشتؔ کو جس نے غالبؔ دوراں بنا دیا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    تیر نظر نے ظلم کو احساں بنا دیا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY