ترے قریب پہنچنے کے ڈھنگ آتے تھے

کشور ناہید

ترے قریب پہنچنے کے ڈھنگ آتے تھے

کشور ناہید

MORE BYکشور ناہید

    ترے قریب پہنچنے کے ڈھنگ آتے تھے

    یہ خود فریب مگر راہ بھول جاتے تھے

    ہمیں عزیز ہیں ان بستیوں کی دیواریں

    کہ جن کے سائے بھی دیوار بنتے جاتے تھے

    ستیز نقش وفا تھا تعلق یاراں

    وہ زخمۂ رگ جاں چھیڑ چھیڑ جاتے تھے

    وہ اور کون ترے قرب کو ترستا تھا

    فریب خوردہ ہی تیرا فریب کھاتے تھے

    چھپا کے رکھ دیا پھر آگہی کے شیشے کو

    اس آئینے میں تو چہرے بگڑتے جاتے تھے

    اب ایک عمر سے دکھ بھی کوئی نہیں دیتا

    وہ لوگ کیا تھے جو آٹھوں پہر رلاتے تھے

    وہ لوگ کیا ہوئے جو اونگھتی ہوئی شب میں

    در فراق کی زنجیر سی ہلاتے تھے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    کشور ناہید

    کشور ناہید

    RECITATIONS

    کشور ناہید

    کشور ناہید

    کشور ناہید

    ترے قریب پہنچنے کے ڈھنگ آتے تھے کشور ناہید

    مأخذ :
    • کتاب : kulliyat dusht-e-qais main laila (Pg. 88)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY