تمہاری شرط محبت کبھی وفا نہ ہوئی

مبارک عظیم آبادی

تمہاری شرط محبت کبھی وفا نہ ہوئی

مبارک عظیم آبادی

MORE BYمبارک عظیم آبادی

    تمہاری شرط محبت کبھی وفا نہ ہوئی

    یہ کیا ہوئی تمہیں کہہ دو اگر جفا نہ ہوئی

    قدم قدم پہ قدم لڑکھڑائے جاتے تھے

    تمام عمر بھی طے منزل وفا نہ ہوئی

    تمہیں کہو تمہیں ناآشنا کہیں نہ کہیں

    کہ آشنا سے ادا رسم آشنا نہ ہوئی

    تری ادا کی قسم ہے تری ادا کے سوا

    پسند اور کسی کی ہمیں ادا نہ ہوئی

    ہمیں کو دیکھ کے خنجر نکالتے تھے آپ

    ہمارے بعد تو یہ رسم پھر ادا نہ ہوئی

    خدا نے رکھ لیا ناز و نیاز کا پردہ

    کہ روز حشر مری ان کی برملا نہ ہوئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY