ادھر تو دار پر رکھا ہوا ہے

شجاع خاور

ادھر تو دار پر رکھا ہوا ہے

شجاع خاور

MORE BY شجاع خاور

    ادھر تو دار پر رکھا ہوا ہے

    ادھر پیروں میں سر رکھا ہوا ہے

    کم از کم اس سراب آرزو نے

    مری آنکھوں کو تر رکھا ہوا ہے

    سمجھتے کیا ہو ہم کو شہر والو

    بیاباں میں بھی گھر رکھا ہوا ہے

    ہم اچھا مال تو بالکل نہیں ہیں

    ہمیں کیوں باندھ کر رکھا ہوا ہے

    مرے حالات کو بس یوں سمجھ لو

    پرندے پر شجر رکھا ہوا ہے

    جہالت سے گزارہ کر رہا ہوں

    کتابوں میں ہنر رکھا ہوا ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ادھر تو دار پر رکھا ہوا ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY