ویران سراۓ کا دیا ہے

عبید اللہ علیم

ویران سراۓ کا دیا ہے

عبید اللہ علیم

MORE BYعبید اللہ علیم

    ویران سراۓ کا دیا ہے

    جو کون و مکاں میں جل رہا ہے

    یہ کیسی بچھڑنے کی سزا ہے

    آئینے میں چہرہ رکھ گیا ہے

    خورشید مثال شخص کل شام

    مٹی کے سپرد کر دیا ہے

    تم مر گئے حوصلہ تمہارا

    زندہ ہوں میں یہ میرا حوصلہ ہے

    اندر بھی اس زمیں کے روشنی ہو

    مٹی میں چراغ رکھ دیا ہے

    میں کون سا خواب دیکھتا ہوں

    یہ کون سے ملک کی فضا ہے

    وہ کون سا ہاتھ ہے کہ جس نے

    مجھ آگ کو خاک سے لکھا ہے

    رکھا تھا خلا میں پاؤں میں نے

    رستے میں ستارہ آ گیا ہے

    شاید کہ خدا میں اور مجھ میں

    اک جست کا اور فاصلہ ہے

    گردش میں ہیں کتنی کائناتیں

    بچہ مرا پاؤں چل رہا ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    عابدہ پروین

    عابدہ پروین

    عبید اللہ علیم

    عبید اللہ علیم

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY