وہ دل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیں

ناصر کاظمی

وہ دل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیں

ناصر کاظمی

MORE BY ناصر کاظمی

    وہ دل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیں

    مرا علاج مرے چارہ گر کے پاس نہیں

    تڑپ رہے ہیں زباں پر کئی سوال مگر

    مرے لیے کوئی شایان التماس نہیں

    ترے جلو میں بھی دل کانپ کانپ اٹھتا ہے

    مرے مزاج کو آسودگی بھی راس نہیں

    کبھی کبھی جو ترے قرب میں گزارے تھے

    اب ان دنوں کا تصور بھی میرے پاس نہیں

    گزر رہے ہیں عجب مرحلوں سے دیدہ و دل

    سحر کی آس تو ہے زندگی کی آس نہیں

    مجھے یہ ڈر ہے تری آرزو نہ مٹ جائے

    بہت دنوں سے طبیعت مری اداس نہیں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    وہ دل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY