وہ ایک لمحہ کہ مشکل سے کٹنے والا تھا

نسیم سحر

وہ ایک لمحہ کہ مشکل سے کٹنے والا تھا

نسیم سحر

MORE BYنسیم سحر

    وہ ایک لمحہ کہ مشکل سے کٹنے والا تھا

    میں تنگ آ کے زمیں میں سمٹنے والا تھا

    مرا وجود مزاحم تھا چاروں جانب سے

    اسی لیے تو میں رستے سے ہٹنے والا تھا

    میں تخت عشق پہ فائز تھا جانتا تھا کہاں

    کہ ایک دن مرا تختہ الٹنے والا تھا

    جو بات کی تھی ہوا میں بکھرنے والی تھی

    جو خط لکھا تھا وہ پرزوں میں بٹنے والا تھا

    یہ انتہا تھی کہ اک روز میں بھی دانستہ

    غبار بن کے ہوا سے لپٹنے والا تھا

    پھر اک صدا پہ مجھے فیصلہ بدلنا پڑا

    میں یوں تو اس کی گلی سے پلٹنے والا تھا

    نسیمؔ تازہ ہوا نے دیا تھا مجھ کو پیام

    غبار دل پہ جو چھایا تھا چھٹنے والا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے