وہ ہم سے دور ہوتے جا رہے ہیں

شکیل بدایونی

وہ ہم سے دور ہوتے جا رہے ہیں

شکیل بدایونی

MORE BYشکیل بدایونی

    وہ ہم سے دور ہوتے جا رہے ہیں

    بہت مغرور ہوتے جا رہے ہیں

    بس اک ترک محبت کے ارادے

    ہمیں منظور ہوتے جا رہے ہیں

    مناظر تھے جو فردوس تصور

    وہ سب مستور ہوتے جا رہے ہیں

    بدلتی جا رہی ہے دل کی دنیا

    نئے دستور ہوتے جا رہے ہیں

    بہت مغموم تھے جو دیدہ و دل

    بہت مسرور ہوتے جا رہے ہیں

    وفا پر مردنی سی چھا چلی ہے

    ستم کا نور ہوتے جا رہے ہیں

    کبھی وہ پاس آئے جا رہے تھے

    مگر اب دور ہوتے جا رہے ہیں

    فراق و ہجر کے تاریک لمحے

    سراپا نور ہوتے جا رہے ہیں

    شکیلؔ احساس گمنامی سے کہہ دو

    کہ ہم مشہور ہوتے جا رہے ہیں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    وہ ہم سے دور ہوتے جا رہے ہیں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY