وہ مسیحا نہ بنا ہم نے بھی خواہش نہیں کی

عنبرین حسیب عنبر

وہ مسیحا نہ بنا ہم نے بھی خواہش نہیں کی

عنبرین حسیب عنبر

MORE BYعنبرین حسیب عنبر

    وہ مسیحا نہ بنا ہم نے بھی خواہش نہیں کی

    اپنی شرطوں پہ جیے اس سے گزارش نہیں کی

    اس نے اک روز کیا ہم سے اچانک وہ سوال

    دھڑکنیں تھم سی گئیں وقت نے جنبش نہیں کی

    کس لئے بجھنے لگے اول شب سارے چراغ

    آندھیوں نے بھی اگرچہ کوئی سازش نہیں کی

    اب کے ہم نے بھی دیا ترک تعلق کا جواب

    ہونٹ خاموش رہے آنکھ نے بارش نہیں کی

    ہم تو سنتے تھے کہ مل جاتے ہیں بچھڑے ہوئے لوگ

    تو جو بچھڑا ہے تو کیا وقت نے گردش نہیں کی

    اس نے ظاہر نہ کیا اپنا پشیماں ہونا

    ہم بھی انجان رہے ہم نے بھی پرسش نہیں کی

    مآخذ :
    • کتاب : Dil Kay Ufuq Par (Pg. 77)
    • Author : Ambareen Haseeb Amber
    • مطبع : Kitab Market ,Office 17 Urdu Bazar, Karachi, Pakistan (2012)
    • اشاعت : 2012

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY