یارو حدود غم سے گزرنے لگا ہوں میں

فراغ روہوی

یارو حدود غم سے گزرنے لگا ہوں میں

فراغ روہوی

MORE BYفراغ روہوی

    یارو حدود غم سے گزرنے لگا ہوں میں

    مجھ کو سمیٹ لو کہ بکھرنے لگا ہوں میں

    چھو کر بلندیوں سے اترنے لگا ہوں میں

    شاید نگاہ وقت سے ڈرنے لگا ہوں میں

    پر تولنے لگی ہیں جو اونچی اڑان کو

    ان خواہشوں کے پنکھ کترنے لگا ہوں میں

    آتا نہیں یقین کہ ان کے خیال میں

    پھر آفتاب بن کے ابھرنے لگا ہوں میں

    کیا بات ہے کہ اپنی طبیعت کے بر خلاف

    دے کر زباں فراغؔ مکرنے لگا ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے