یہی ہے دور غم عاشقی تو کیا ہوگا

فارغ بخاری

یہی ہے دور غم عاشقی تو کیا ہوگا

فارغ بخاری

MORE BYفارغ بخاری

    یہی ہے دور غم عاشقی تو کیا ہوگا

    اسی طرح سے کٹی زندگی تو کیا ہوگا

    ابھی تو ہم نفسوں کو ہے وہم چارہ گری

    ہوئی نہ درد میں پھر بھی کمی تو کیا ہوگا

    یہ تیرگی تو بہر حال چھٹ ہی جائے گی

    نہ راس آئی ہمیں روشنی تو کیا ہوگا

    امید ہے کہ کبھی تو لبوں پہ آئے گی

    کبھی نہ آئی لبوں پر ہنسی تو کیا ہوگا

    نفس نفس میں فغاں ہے نظر نظر میں ہراس

    کچھ اور دن یہی حالت رہی تو کیا ہوگا

    مآخذ :
    • کتاب : Range-e-Gazal (Pg. 299)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY