یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہو

ظفر اقبال

یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہو

ظفر اقبال

MORE BYظفر اقبال

    یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہو

    راس آنے لگے ہم کو تو یہ دنیا ہی نہ ہو

    کہیں نکلے کوئی اندازہ ہمارا بھی غلط

    جانتے ہیں اسے جیسا کہیں ویسا ہی نہ ہو

    ہو کسی طرح سے مخصوص ہمارے ہی لیے

    یعنی جتنا نظر آتا ہے وہ اتنا ہی نہ ہو

    ٹکٹکی باندھ کے میں دیکھ رہا ہوں جس کو

    یہ بھی ہو سکتا ہے وہ سامنے بیٹھا ہی نہ ہو

    وہ کوئی اور ہو جو ساتھ کسی اور کے ہے

    اصل میں تو وہ ابھی لوٹ کے آیا ہی نہ ہو

    خواب در خواب چلا کرتا ہے آنکھوں میں جو شخص

    ڈھونڈنے نکلیں اسے اور کہیں رہتا ہی نہ ہو

    چمک اٹھا ہو ابھی روئے بیاباں اک دم

    اور یہ نظارہ کسی اور نے دیکھا ہی نہ ہو

    کیفیت ہی کوئی پانی نے بدل لی ہو کہیں

    ہم جسے دشت سمجھتے ہیں وہ دریا ہی نہ ہو

    مسئلہ اتنا بھی آسان نہیں ہے کہ ظفرؔ

    اپنے نزدیک جو سیدھا ہے وہ الٹا ہی نہ ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY